اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شہید نوید حسین کی لاش کندیاں (میانوالی) سے جبکہ شہید ظفر علی کی لاش ڈیرہ اسمعیل خان کے علاقے رمک سے ملی ہے۔شہید نوید حسین ولد شہید امداد حسین سکنہ بستی استرانہ ڈی آئی خان کے رہائشی تھے ۔جن کا دو سال قبل 29 رمضان کو خفیہ ایجنسیوں نے لاہور سے آتے ہوئے سرائے مہاجر بھکر سے اغواء کرکے ڈیرہ اسمعیل خان کے آرمی قلعے میں رکھا گیا تھا جہاں ان کے عزیز ان سے ملاقات کے لئے جایا کرتے تھے۔شہید نوید کی لاش 11 اپریل کو میانوالی کے علاقے کندیاں سے ملی۔رپورٹ کے مطابق شہید نوید حسین ان لاپتہ مظلوموں میں شامل تھے جنہیں پاکستانی ایجنسیوں نے اغوا کرکے عرصۂ دراز سے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے اور ان کا کیس سپریم کورٹ میں چل رہا تھا اور شہید نوید کے کیس کی ان ہی دنوں میں سماعت ہونی تھی۔دوسری طرف سے ڈیرہ اسمعیل خان سے اغوا ہونے والے 27 شیعہ نوجوانوں میں سے ایک اور نوجوان ظفر علی کی لاش آج رمک کے علاقے سے ملی ہے اس فوج سے وابستہ خفیہ ایجنسیوں کی ناجائز تحویل میں ٹارچر اور تشدد جھیلنے والے نوجوانوں میں سے ایک اور نوجوان بھی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں جبکہ باقی افراد کی قسمت کا فیصلہ بھی بظاہر ان ہی سرکاری دہشت گردوں کے ہاتھ میں ہے۔ماورائے عدالت قتلوں کا یہ سلسلہ ایسے حال میں جاری ہے کہ سپریم کورٹ اور تمام ذیلی عدالتوں کی جانب سے حقیقی دہشت گردوں اور قاتلوں کو دھڑا دھڑ رہا کیا جارہا ہے اور ملک میں تشکیل یافتہ نام نہاد جماعتوں میں پہنچایا جارہا ہے جو پاکستان کو مستقبل قریب میں طالبان سٹیٹ بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔ دفاع پاکستان کے نام پر ہونے والی ریلیوں میں شرکت کرنے والے افراد کے ہاتھوں میں جھنڈوں اور بینروں کو دیکھ کر اس مدعا کا ثبوت واضح طور پر سامنے آتا ہے۔شہید نوید اور شہید ظفر کے سلسلے میں ایک بات یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان دو شہیدوں کو خفیہ ایجنسیوں نے دوسالہ حبس بے جا کے دوران بال بنوانے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن شہادت سے پہلے ان کے بال آرمی اسٹائل میں بنوائے گئے تھے؛ ظاہر ہے کہ جن افراد کو اغوا کیا جاتا ہے ان کا شناختی کارڈ یا دوسری دستاویزات ایجنسیوں کی تحویل میں ہوتی ہیں لیکن ان دو شہیدوں کی جیبوں میں ان کی دستاویزات موجود تھیں اور تو اور، ظفر علی کی جیب میں سجدہ گاہ اور تسبیح تک رکھی گئی تھی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آرمی والوں نے یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ یہ افراد دہشت گرد ٹولوں کےحملوں کا نشانہ بنے ہیں لیکن ان کی شہادت کی کیفیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سرکاری دہشت گردی کا شکار ہوگئے ہیں؛ اور پھر شہید نوید کے کیس کا سپریم کورٹ میں سماعت کا اعلان بھی ہوا تھا اور ایجنسیوں کو خدشہ تھا کہ کہیں سپریم کورٹ ان کی رہائی کا اعلان ہی نہ کرے گو کہ ایجنسیوں نے سپریم کورٹ سے بھی جھوٹ بول کر کہا تھا کہ وہ ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔یاد رہے کہ شہید نوید کا خاندان شہداء کے خاندان کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے کیونکہ ان کے والد شہید امداد حسین، ان کے بھائی اور ایک بہنوئی پہلے ہی شہید ہوچکے ہیں جبکہ ان کے بھائی دلدار حسین بھی فوج سے وابستہ ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں اور وہ بھی ناجائز اور غیرقانونی قید کاٹ رہے ہیں جبکہ ایک بھائی افتخار حسین جیل میں ہیں۔ گویا اس خاندان کے شہیدوں کے قاتلوں کو گرفتار کرکے سزا دینے کی بجائے پورے خاندان کو سزا دی جارہی ہے۔رپورٹ کے مطابق شہید نوید کی میت کوٹلی امام حسین (ع) پہنچائی گئی تھی لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ان کے جنازے کے جلوس میں صرف 27 افراد نے شرکت کی جبکہ اہل خاندان اور یار دوست سرکاری ایجنسیوں کی دہشتگردانہ اقدامات کے ڈر سے جنازے میں شرکت نہ کرسکے۔
ان دو مظلوم نوجوانوں کی شہادت کے بعد ڈیرہ اسمعیل خان کے مزید 25 شیعہ افراد بھی آرمی کی تحویل میں ہیں جن میں کالج کے ایک لیکچرار بھی شامل ہیں اور ان افراد کو ریاستی دہشت گردی کاخطرہ ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ شیعیان پاکستان کے راہنماؤں کی جانب سے حکومت سے ان کی رہائی کا دوٹوک مطالبہ اور سنجیدہ پیروی کی صورت میں ان کے قتل کا خطرہ ٹل سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110